اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، مالی کے وزیر خارجہ عبداللہ دیوپ نے افریقی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ دفاعی شعبے میں غیر ملکی سازوسامان کے خریدار بننے کے بجائے مقامی سطح پر جدید دفاعی ٹیکنالوجی کی تیاری اور ترقی کی طرف بڑھیں۔
روانڈا کے دارالحکومت کیگالی میں منعقدہ بین الاقوامی افریقی سلامتی کانفرنس کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے دیوپ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، ڈرونز اور خودکار عسکری نظام میں تیز رفتار ترقی کے پیش نظر افریقی ممالک کو اپنی دفاعی اور سکیورٹی پالیسیوں میں خودمختاری کو بنیادی حیثیت دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز کے دور میں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ دفاعی اور سکیورٹی سے متعلق فیصلوں کے لیے بیرونی طاقتوں پر انحصار کم کریں اور اپنی صلاحیتوں کو خود ترقی دیں۔
مالی کے وزیر خارجہ نے اپنے ملک کے مسلح گروہوں کے خلاف تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے دفاعی شعبے میں بیرونی انحصار کے خطرات پر بھی روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق ساحل کے خطے میں تنازعات اب صرف فوجی نوعیت کے نہیں رہے بلکہ ان میں اقتصادی اور میڈیا کے پہلو بھی شامل ہو چکے ہیں۔
دیوپ نے بعض غیر ملکی ریاستی عناصر پر الزام عائد کیا کہ وہ ساحل کے خطے میں موجود باغی گروہوں کو جدید ہتھیار اور ڈرون فراہم کر رہے ہیں۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں نہیں کی گئی۔
انہوں نے سرحد پار خطرات سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مالی، نائجر اور برکینا فاسو پر مشتمل ساحل ممالک کے اتحاد جیسے علاقائی ڈھانچوں کو مزید فعال بنانے کی تجویز دی۔
مالی کے وزیر خارجہ نے ایک بار پھر افریقی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ دفاعی سازوسامان درآمد کرنے پر انحصار کم کرتے ہوئے مقامی سطح پر دفاعی ٹیکنالوجی کی ڈیزائننگ، تیاری اور تحقیق کی صلاحیت پیدا کریں۔
کیگالی میں ہونے والی افریقی سلامتی کانفرنس میں 50 ممالک کے 300 سے زائد وفود نے شرکت کی، جہاں مصنوعی ذہانت اور خودکار عسکری نظام کے براعظم کی سلامتی اور دفاع پر بڑھتے ہوئے اثرات سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مالی میں 2021 کی فوجی بغاوت کے بعد فرانسیسی اور امریکی افواج کے انخلا اور روس کے ساتھ سکیورٹی تعاون میں اضافے کے باوجود ملک کو بدستور سنگین سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے۔ حالیہ مہینوں میں مسلح اور علیحدگی پسند گروہوں کی کارروائیوں میں اضافے نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ